سورہ Al-Isra — آیت 32

رات کا صفر · 17:32 · 32/111

وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلزِّنَىٰٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلًا

Wala taqraboo azzinainnahu kana fahishatan wasaa sabeela

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

محمد جوناگڑھی

خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

زنا کے قریب نہ پھٹکو، وہ بہت بُرا فعل اور بڑا ہی بُرا راستہ۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور زنا کے قریب بھی مت جاؤ یقیناً یہ بہت بےحیائی کا کام ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے.[1]

حواشی

[1] اسلام میں زنا چونکہ بہت بڑا جرم ہے، اتنا بڑا کہ کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس کا ارتکاب کر لے تو اسے اسلامی معاشرے میں زندہ رہنے کا ہی حق نہیں ہے۔ پھر اسے تلوار کے ایک وار سے مار دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ حکم ہے کہ پتھر مار مار کر اس کی زندگی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ معاشرے میں نشان عبرت بن جائے۔ اس لئے یہاں فرمایا کہ زنا کے قریب مت جاؤ، یعنی اس کے دواعی و اسباب سے بھی بچ کر رہو، مثلًا غیر محرم عورت کو دیکھنا، ان سے اختلاط، کلام کی راہیں پیدا کرنا، اسی طرح عورتوں کا بے پردہ اور بن سنور کر گھروں سے باہر نکلنا، وغیرہ ان تمام امور سے پرہیز ضروری ہے تاکہ اس بےحیائی سے بچا جا سکے۔