سورہ Al-Isra — آیت 31
رات کا صفر · 17:31 · 31/111
وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَـٰدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَـٰقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ۚ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْـًٔا كَبِيرًا
Wala taqtuloo awladakumkhashyata imlaqin nahnu narzuquhum wa-iyyakuminna qatlahum kana khit-an kabeera
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے
محمد جوناگڑھی
اور مفلسی کے خوف سے اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالو، ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں۔ یقیناً ان کا قتل کرنا کبیره گناه ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے اندیشے سے ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی یقیناً ان کو قتل کرنا بہت بڑی خطا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور مفلسی کے خوف سے اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالو، ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں۔ یقیناً ان کا قتل کرنا کبیره گناه ہے.[1]
حواشی
[1] یہ آیت سورۃ الا نعام 151 میں بھی گزر چکی ہے، حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے شرک کے بعد جس گناہ کو سب سے بڑا قرار دیا وہ یہی ہے کہ «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» ۔ (صحيح بخاري- تفسير سورة البقرة، وكتاب الأدب، مسلم، كتاب التوحيد، باب فلا تجعلوا لله أندادا) ”کہ تو اپنی اولاد اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی“۔ آج کل قتل اولاد کا گناہ عظیم طریقے سے خاندانی منصوبہ بندی کے حسین عنوان سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور مرد حضرات ”بہتر تعلیم و تربیت“ کے نام پر اور خواتین اپنے ”حسن“ کو برقرار رکھنے کے لئے اس جرم کا عام ارتکاب کر رہی ہیں۔ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهُ۔