سورہ Al-Isra — آیت 33
رات کا صفر · 17:33 · 33/111
وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِۦ سُلْطَـٰنًا فَلَا يُسْرِف فِّى ٱلْقَتْلِ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ مَنصُورًا
Wala taqtuloo annafsa allateeharrama Allahu illa bilhaqqiwaman qutila mathlooman faqad jaAAalnaliwaliyyihi sultanan fala yusrif fee alqatli innahukana mansoora
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت)۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے
محمد جوناگڑھی
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈاﻻ جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے پس اسے چاہیئے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بےشک وه مدد کیا گیا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کے وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور مت قتل کرو اس انسانی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے مگر حق کے ساتھ اور جسے قتل کردیا گیا مظلومی میں تو اس کے ولی کو ہم نے اختیار دیا ہے تو وہ بھی قتل میں حد سے تجاوز نہ کرے اس کی مدد کی جائے گی