سورہ Al-Hijr — آیت 90

پتھر · 15:90 · 90/99

كَمَآ أَنزَلْنَا عَلَى ٱلْمُقْتَسِمِينَ

Kama anzalna AAalaalmuqtasimeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا

محمد جوناگڑھی

جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ اُسی کی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

جیسے کہ ہم نے نازل کیا ان تقسیم کرنے والوں پر

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا.[1]

حواشی

[1] بعض مفسرین کے نزدیک أَنْزَلْنَا کا مفعول الْعَذَابَ محذوف ہے۔ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں کھل کر ڈرانے والا ہوں عذاب سے، مثل اس عذاب کے، جو مُقْتَسِمِينَ پر نازل ہوا، مُقْتَسِمِينَ کون ہیں؟ جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے قریش قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کر دیا، اس کے بعض حصے کو شعر، بعض کو سحر (جادو) بعض کو کہانت اور بعض کو اساطیرالأولین (پہلوں کی کہانیاں) قرار دیا، بعض کہتے ہیں کہ مُقْتَسِمِينَ سے اہل کتاب اور قرآن سے مراد تورات و انجیل ہیں۔ انہوں نے ان آسمانی کتابوں کو متفرق اجزاء میں بانٹ دیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح (عليه السلام) کی قوم ہے جنہوں نے آپس میں قسم کھائی تھی کہ صالح (عليه السلام) اور ان کے گھر والوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کر دیں گے «تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ» (النمل: 49) اور آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ”عِضِينَ“ کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ اس کی بعض باتوں پر ایمان رکھنا اور بعض کے ساتھ کفر کرنا۔