سورہ Al-Baqarah — آیت 15
گائے · 2:15 · 15/286
ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
Allahu yastahzi-o bihim wayamudduhumfee tughyanihim yaAAmahoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں
محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے[1] اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔
حواشی
[1] ”اللہ تعالیٰ بھی ان سے مذاق کرتا ہے“ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ جس طرح مسلمانوں کے ساتھ استہزا واستخفاف کا معاملہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ بھی ان سے ایسا ہی معاملہ کرتے ہوئے انہیں ذلت وادبار میں مبتلا کرتا ہے۔ اس کو استہزا سے تعبیر کرنا، زبان کا اسلوب ہے، ورنہ حقیقتاً یہ استہزا نہیں ہے، ان کے فعل استہزا کی سزا ہے جیسے «وَجَزَٰٓؤُاْ سَيِّئَةٖ سَيِّئَةٞ مِّثۡلُهَا» (الشورى- 40) ”برائی کا بدلہ، اسی کی مثل برائی ہے“ میں برائی کے بدلے کو برائی کہا گیا ہے حالانکہ وہ برائی نہیں ہے ایک جائز فعل ہے۔ اسی طرح «يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ»، «وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ» وغیرہ آیات میں ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بھی ان سے استہزا فرمائے گا۔ جیسا کہ سورۂ حدید کی آیت «يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ» الآية میں وضاحت ہے۔