سورہ Al-Baqarah — آیت 16

گائے · 2:16 · 16/286

أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَـٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَـٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ

Ola-ika allatheena ishtarawooaddalalata bilhuda famarabihat tijaratuhum wama kanoomuhtadeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

محمد جوناگڑھی

یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائده پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے۔ سو نافع نہ ہوئی ان کی تجارت ان کے حق میں اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت[1] نے ان کو فائده پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔

حواشی

[1] تجارت سے مراد ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا ہے، جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ منافقین نے نفاق کا جامہ پہن کر یہی گھاٹے والی تجارت کی۔ لیکن یہ گھاٹا آخرت کا گھاٹا ہے، ضروری نہیں کہ دنیا میں ہی اس گھاٹے کا انہیں علم ہوجائے۔ بلکہ دنیا میں تو اس نفاق کے ذریعے سے انہیں جو فوری فائدے حاصل ہوتے تھے، اس پر وہ بڑے خوش ہوتے اور اس کی بنیاد پر اپنے آپ کو بہت دانا اور مسلمانوں کو عقل وفہم سے عاری سمجھتے تھے۔