سورہ Al-Balad — آیت 2
شہر · 90:2 · 2/20
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَـٰذَا ٱلْبَلَدِ
Waanta hillun bihatha albalad
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو
محمد جوناگڑھی
اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے،
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (اے نبی ﷺ !) آپ حلال کرلیے گئے ہیں اس شہر میں۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں.[1]
حواشی
[1] یہ اشارہ ہے اس وقت کی طرف جب مکہ فتح ہوا، اس وقت اللہ نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے لئے اس بلد حرام میں قتال کو حلال فرما دیا تھا جب کہ اس میں لڑائی کی اجازت نہیں ہے چنانچہ حدیث میں ہے، نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا (اس شہر کو اللہ نے اس وقت سے حرمت والا بنایا ہے، جب سے اس نے آسمان وزمین پیدا کیے۔ پس یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمت سے قیامت تک حرام ہے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کے کانٹے اکھیڑے جائیں، میرے لئے اسے صرف دن کی ایک ساعت کے لئے حلال کیا گیا تھا اور آج اس کی حرمت پھر اسی طرح لوٹ آئی ہے، جیسے کل تھی ۔۔۔ اگر کوئی یہاں قتال کے لئے دلیل میں میری لڑائی کو پیش کرے تو اس سےکہو کہ اللہ کے رسول کو تو اس کی اجازت اللہ نے دی تھی جب کہ تمہیں یہ اجازت اس نے نہیں دی)۔ ( صحيح بخاري، كتاب العلم ، باب ليبلغ الشاهد منكم الغائب- مسلم، كتاب الحج، باب تحريم مكة ...) اس اعتبار سے معنی ہوں گے وَأَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَدِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ یہ جملہ معترضہ ہے۔