سورہ An-Naml — آیت 76
چیونٹی · 27:76 · 76/93
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
Inna hatha alqur-ana yaqussuAAala banee isra-eela akthara allathee humfeehi yakhtalifoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیان کر دیتا ہے
محمد جوناگڑھی
یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثراُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
یقیناً یہ قرآن کھول کر بیان کر رہا ہے بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہے جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں.[1]
حواشی
[1] اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کے عقائد بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تنقیص اور توہین کرتے تھے اور عیسائی ان کی شان میں غلو۔ حتیٰ کہ انہیں، اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے دیا . قرآن کریم نے ان کے حوالے سے ایسی باتیں بیان فرمائیں ، جن سے حق واضح ہو جاتا ہے اور اگر وہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کو مان لیں تو ان کے عقائدی اختلافات ختم اور ان کا تفرق وانتشار کم ہوسکتا ہے۔