سورہ Al-Waqi'ah — آیت 87

واقعہ ہونے والی قیامت · 56:87 · 87/96

تَرْجِعُونَهَآ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

TarjiAAoonaha in kuntum sadiqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو اگر سچے ہو تو روح کو پھیر کیوں نہیں لیتے؟

محمد جوناگڑھی

اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو اس (جان) کو لوٹا کیوں نہیں لیتے اگر تم سچے ہو ؟

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ.[1]

حواشی

[1] دَانَ يَدِينُ کے معنی ہیں، ماتحت ہونا، دوسرے معنی ہیں بدلہ دینا۔ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیرفرمان اور ماتحت ہو یاکوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاو اور اگرتم ایسا نہیں کر سکتے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تمہارا گمان باطل ہے۔ یقیناً تمہارا ایک آقا ہے اور یقیناً ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اس کے عمل کی جزادے گا۔