سورہ Al-Hajj — آیت 49
حج · 22:49 · 49/78
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَآ أَنَا۠ لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
Qul ya ayyuha annasuinnama ana lakum natheerun mubeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں
محمد جوناگڑھی
اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے واﻻ ہی ہوں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے محمدؐ ، کہہ دو کہ”لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (بُرا وقت آنے سے پہلے)صاف صاف خبردار کر دینے والا ہو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے نبی ﷺ !) آپ اعلان کردیجیے کہ میں تو تمہارے لیے بس ایک واضح طور پر خبردار کرنے والا ہوں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے واﻻ ہی ہوں.[1]
حواشی
[1] یہ کفار و مشرکین کے مطالبہ عذاب پر کہا جا رہا ہے کہ میرا کام تو انذار و تبشیر ہے۔ عذاب بھیجنا، یہ اللہ کا کام ہے، وہ جلدی گرفت فرما لے یا اس میں تاخیر کرے، وہ اپنی حسب و مشیت و مصلحت یہ کام کرتا ہے۔ جس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ اس خطاب کے اصل مخاطب اگرچہ اہل مکہ ہیں۔ لیکن چونکہ آپ پوری نوح انسانی کے لئے رہبر اور رسول بن کر آئے تھے، اس لئے خطاب يَا أَيُّهَا النَّاسُ! کے الفاظ سے کیا گیا، اس میں قیامت تک ہونے والے وہ کفار و مشرکین آگئے جو اہل مکہ کا سا رویہ اختیار کریں گے۔