سورہ Al-Hajj — آیت 32

حج · 22:32 · 32/78

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَـٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى ٱلْقُلُوبِ

Thalika waman yuAAaththimshaAAa-ira Allahi fa-innaha min taqwaalquloob

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(یہ ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے

محمد جوناگڑھی

یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ ہے اصل معاملہ(اِسے سمجھ لو)اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر کا احترام کرے  تو یہ دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہ سب کچھ (تم نے سن لیا) اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے.[1]

حواشی

[1] شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں علامت اور نشانی کے ہیں جیسے جنگ میں ایک شعار (مخصوص لفظ بطور علامت) اختیار کرلیا جاتا ہے جس سے وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہنچانتے ہیں اس اعتبار سے شعائر اللہ وہ ہیں، جو جو اسلام کے نمایاں امتیازی احکام ہیں، جن سے ایک مسلمان کا امتیاز اور تشخص قائم ہوتا ہے اور دوسرے اہل مذاہب سے الگ پہچان لیا جاتا ہے، صفا، مروہ پہاڑیوں کو بھی اس لئے شعائر اللہ کہا گیا ہے کہ مسلمان حج و عمرے میں ان کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ یہاں حج کے دیگر مناسک خصوصاً قربانی کے جانوروں کو شعائر اللہ کہا گیا ہے۔ اس تعظیم کو دل کا تقوٰی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی دل کے ان افعال سے جن کی بنیاد تقوٰی ہے۔