سورہ Al-Fatihah — آیت 4
کھولنے والی · 1:4 · 4/7
مَـٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ
Maliki yawmi addeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
انصاف کے دن کا حاکم
محمد جوناگڑھی
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
روزِ جزا کا مالک ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے۔[1]
حواشی
[1] دنیا میں بھی اگرچہ مکافات عمل کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے، تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا اور سزا دے گا۔ اسی طرح دنیا میں عارضی طور پر اور بھی کئی لوگوں کے پاس تحت الاسباب اختیارات ہوتے ہیں، لیکن آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس روز فرمائے گا: «لِّمَنِ ٱلۡمُلۡكُ ٱلۡيَوۡمَ» (غافر: 16) ”آج کس کی بادشاہی ہے؟“ پھر وہی جواب دے گا: «لِلَّهِ ٱلۡوَٰحِدِ ٱلۡقَهَّارِ» (غافر: 16) ”صرف ایک غالب اللہ کے لئے“ «يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ» (الانفطار: 19) ”اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔“ یہ ہوگا جزا کا دن۔