سورہ Al-Baqarah — آیت 72

گائے · 2:72 · 72/286

وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَٱدَّٰرَْٰٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ

Wa-ith qataltum nafsan faddara'tumfeeha wallahu mukhrijun ma kuntumtaktumoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا، تو اس میں باہم جھگڑنے لگے۔ لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے، خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

محمد جوناگڑھی

جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈاﻻ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو، اسے کھول کر رکھ دے گا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کا الزام تم ایک دوسرے پر لگا رہے تھے۔ اور اللہ کو ظاہر کرنا تھا جو کچھ تم چھپاتے تھے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈاﻻ، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا۔[1]

حواشی

[1] یہ قتل کا وہی واقعہ ہے جس کی بنا پر بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس قتل کا راز فاش کردیا، دراں حالیکہ وہ قتل رات کی تاریکی میں لوگوں سے چھپ کرکیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ نیکی یا بدی تم کتنی بھی چھپ کر کرو، اللہ کے علم میں ہے اور اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس لئے خلوت ہو یا جلوت ہر وقت اور ہر جگہ اچھے کام ہی کیا کرو تاکہ اگر وہ کسی وقت ظاہر ہوجائیں اور لوگوں کے علم میں بھی آجائیں تو شرمندگی نہ ہو، بلکہ اس کے احترام ووقار میں اضافہ ہی ہو اور بدی کتنی بھی چھپ کر کیوں نہ کی جائے، اس کے فاش ہونے کا امکان ہے جس سے انسان کی بدنامی اور ذلت ورسوائی ہوتی ہے۔