سورہ Al-Baqarah — آیت 71

گائے · 2:71 · 71/286

قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُولٌ تُثِيرُ ٱلْأَرْضَ وَلَا تَسْقِى ٱلْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيهَا ۚ قَالُوا۟ ٱلْـَٔـٰنَ جِئْتَ بِٱلْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوا۟ يَفْعَلُونَ

Qala innahu yaqoolu innahabaqaratun la thaloolun tutheeru al-arda walatasqee alhartha musallamatun la shiyata feehaqaloo al-ana ji'ta bilhaqqi fathabahoohawama kadoo yafAAaloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

موسیٰ نے کہا کہ خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو۔ اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو۔ کہنے لگے، اب تم نے سب باتیں درست بتا دیں۔ غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا، اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں

محمد جوناگڑھی

آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وه گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں، وه تندرست اور بےداغ ہے۔ انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کردیا گو وه حکم برداری کے قریب نہ تھے، لیکن اسے مانا اور وه گائے ذبح کردی۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

موسیٰ ؑ ؑ نے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہےجس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہو۔اس پر وہ پکار اُٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر اُنہوں نے اُسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے کہ جس سے کوئی مشقت نہ لی جاتی ہو نہ وہ زمین میں ہل چلاتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو وہ صحیح سالم یک رنگ ہونی چاہیے انہوں نے کہا اب آپ لائے ہیں ٹھیک بات تب انہوں نے اس کو ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ ایسا کرلیں گے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وه گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں، وه تندرست اور بےداغ ہے۔ انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کردیا گو وه حکم برداری کے قریب نہ تھے، لیکن اسے مانا اور وه گائے ذبح کردی۔[1]

حواشی

[1] انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ ایک گائے ذبح کرو۔ وہ کوئی سی بھی ایک گائے ذبح کردیتے تو حکم الٰہی پر عمل ہوجاتا، لیکن انہوں نے حکم الہیٰ پر سیدھے طریقے سے عمل کرنےکی بجائے، مین میخ نکالنا اور طرح طرح کے سوالات کرنے شروع کردیئے، جس پر اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا۔ اسی لئے دین میں تعمق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔