سورہ Al-Baqarah — آیت 73

گائے · 2:73 · 73/286

فَقُلْنَا ٱضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْىِ ٱللَّهُ ٱلْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

Faqulna idriboohu bibaAAdihakathalika yuhyee Allahu almawtawayureekum ayatihi laAAallakum taAAqiloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو ہم نے کہا کہ اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو۔ اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

محمد جوناگڑھی

ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو، (وه جی اٹھے گا) اسی طرح اللہ مردوں کو زنده کرکے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتو ل کی لاش کو اس کے ایک حصّے سے ضرب لگاوٴ۔ دیکھو، اسطرح اللہ مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس گائے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کر دے گا اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں (اپنی قدرت کے نمونے) دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو، (وه جی اٹھے گا) اسی طرح اللہ مردوں کو زنده کرکے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔[1]

حواشی

[1] مقتول کے دوبارہ جی اٹھنے سے استدلال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ روز قیامت تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اعلان فرما رہا ہے۔ قیامت کے دن دوبارہ مردوں کا زندہ ہونا، منکرین قیامت کے لئے ہمیشہ حیرت واستعجاب کا باعث رہا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے کو بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف اسلوب اور پیرائے میں بیان فرمایا ہے سورہ بقرۂ میں ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی پانچ مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک مثال: «ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ» (البقرۂ :56) میں گزر چکی ہے۔ دوسری مثال یہی قصہ ہے۔ تیسری مثال دوسرے پارے کی آیت نمبر 243 «مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ» چوتھی آیت نمبر 259 «فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ» اور پانچویں مثال اس کے بعد والی آیت میں حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے طیور اربعہ (چار چڑیوں) کی ہے۔