سورہ Fatir — آیت 32

پیدا کرنے والا · 35:32 · 32/45

ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ

Thumma awrathna alkitaba allatheenaistafayna min AAibadina faminhum thalimunlinafsihi waminhum muqtasidun waminhum sabiqun bilkhayratibi-ithni Allahi thalika huwa alfadlualkabeer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے

محمد جوناگڑھی

پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا فضل ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے)اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔ اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے ُ چن لیا تو ان میں سے کچھ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور ان میں کچھ درمیانی راہ پر چلنے والے ہیں اور ان میں سے کچھ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں اللہ کی توفیق سے } یہی بہت بڑی فضیلت ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب[1] کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں[2] اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں[3] اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں[4]۔ یہ بڑا فضل ہے.[5]

حواشی

[1] کتاب سے مراد قرآن اور چنے ہوئے بندوں سے مراد امت محمدیہ ہے۔ یعنی اس قرآن کا وارث ہم نے امت محمدیہ کو بنایا ہے جسے ہم نے دوسری امتوں کے مقابلے میں چن لیا اور اسے شرف وفضل سے نوازا۔ یہ تقریباً وہی مفہوم ہے جو آیت«وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ»(البقرة: 143) کا ہے۔ [2] امت محمدیہ کی تین قسمیں بیان فرمائیں۔ یہ پہلی قسم ہے، جس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو بعض فرائض میں کوتاہی اور بعض محرمات کا ارتکاب کرلیتے ہیں یا بعض کے نزدیک وہ ہیں جو صغائر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ انہیں اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اس لئے کہا کہ وہ اپنی کچھ کوتاہیوں کی وجہ سے اپنے کو اس اعلیٰ درجے سے محروم کرلیں گے جو باقی دو قسموں کو حاصل ہوں گے۔ [3] یہ دوسری قسم ہے، یعنی ملے جلے عمل کرتے ہیں یا بعض کے نزدیک وہ ہیں جو فرائض کے پابند، محرمات کے تارک تو ہیں لیکن کبھی مستحبات کا ترک اور بعض محرمات کا ارتکاب بھی ان سے ہوجاتا ہے یا وہ ہیں جو نیک تو ہیں لیکن پیش پیش نہیں ہیں۔ [4] یہ وہ ہیں جو دین کے معاملے میں پچھلے دونوں سے سبقت کرنے والے ہیں۔ [5] یعنی کتاب کا وارث کرنا اور شرف وفضل میں ممتاز (مصطفیٰ) کرنا۔