سورہ Fatir — آیت 22

پیدا کرنے والا · 35:22 · 22/45

وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَحْيَآءُ وَلَا ٱلْأَمْوَٰتُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِى ٱلْقُبُورِ

Wama yastawee al-ahyaowala al-amwatu inna Allaha yusmiAAu man yashaowama anta bimusmiAAin man fee alquboor

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں۔ خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے۔ اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے

محمد جوناگڑھی

اور زنده اور مردے برابر نہیں ہوسکتے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور نہ زندہ اور مُردے مساوی ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے سُنواتا ہے ، مگر (اے نبیؐ)تم اُن لوگوں کو نہیں سُنا سکتے  جو قبروں میں مدفون ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور نہ برابر ہوسکتے ہیں زندہ اور مردہ لوگ } یقینا اللہ سناتا ہے جس کو چاہتا ہے اور (اے نبی ﷺ !) آپ نہیں سنا سکتے انہیں جو قبروں کے اندر ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور زنده اور مردے برابر نہیں ہوسکتے[1] ، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے[2]، اور آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں.[3]

حواشی

[1] أَحْيَاءٌ سے مومن اور أَمْوَاتٌ سے کافر یا علما اور جاہل یا عقل مند اور غیر عقل مند مراد ہیں۔ [2] یعنی جسے اللہ ہدایت سے نوازنے والا ہوتا ہے اور جنت اس کے لئے مقدر ہوتی ہے، اسے حجت ودلیل سننے اور پھر اسے قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔ [3] یعنی جس طرح قبروں میں مردہ اشخاص کو کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی، اسی طرح جن کے دلوں کو کفر نے موت سے ہمکنار کردیا ہے، اے پیغمبر (صلى الله عليه وسلم) تو انہیں حق کی بات نہیں سنا سکتا۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح مرنے اور قبرمیں دفن ہونے کے بعد مردہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اسی طرح کافرومﺸرﻙ جن کی قسمت میں بدبختی لکھی ہے، دعوت وتبلیغ سے انہیں فائدہ نہیں ہوتا۔