سورہ Az-Zukhruf — آیت 44

سونے کی چمک · 43:44 · 44/89

وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ

Wa-innahu lathikrun laka waliqawmikawasawfa tus-aloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور یہ (قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور (لوگو) تم سے عنقریب پرسش ہوگی

محمد جوناگڑھی

اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور یہ (قرآن) آپ کے لیے بھی یاد دہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی اور عنقریب آپ سب سے پوچھ گچھ ہوگی

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ[1] کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے.

حواشی

[1] اس تخصیص کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے لیے نصیحت نہیں۔ بلکہ اولین مخاطب چونکہ قریش تھے، اس لیے ان کا ذکر فرمایا، ورنہ قرآن تو پورے جہان کے لیے نصیحت ہے۔ وَمَا هُوَ إِلا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (سورة القلم : 52) جیسے آپ کو حکم دیا گیا کہ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ (الشعراء: 214) (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے) اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کا پیغام صرف رشتے داروں کو ہی پہنچانا ہے۔ بلکہ مطلب ہے تبلیغ کی ابتدا اپنے ہی خاندان سے کریں بعض نے یہاں ذکر بمعنی شرف لیا ہے۔ یعنی یہ قرآن تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے شرف وعزت کا باعث ہے کہ یہ ان کی زبان میں اترا، اس کو وہ سب سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ پوری دنیا پر فضل وبرتری پاسکتے ہیں، اس لیے ان کو چاہیئے کہ اس کو اپنائیں اور اس کے مقتضا پر سب سے زیادہ عمل کریں۔