سورہ At-Tawbah — آیت 102

توبہ · 9:102 · 102/129

وَءَاخَرُونَ ٱعْتَرَفُوا۟ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا۟ عَمَلًا صَـٰلِحًا وَءَاخَرَ سَيِّئًا عَسَى ٱللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Waakharoona iAAtarafoo bithunoobihimkhalatoo AAamalan salihan waakharasayyi-an AAasa Allahu an yatooba AAalayhim inna Allahaghafoorun raheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کر لیا ہے ان کا عمل مخلوط ہے، کچھ نیک ہے اور کچھ بد، بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہو جائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں انہوں نے اچھے اور برے اعمال کو گڈ مڈ کردیا ہے امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔ یقیناً اللہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں[1] جنہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے[2]۔ اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے[3]۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے۔

حواشی

[1] یہ وہ مخلص مسلمان ہیں جو بغیر عذر کے محض تساہل کی وجہ سے تبوک میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ساتھ نہیں گئے بلکہ بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، اور اعتراف گناہ کر لیا۔ [2] بھلے سے مراد وہ اعمال صالحہ ہیں جو جہاد میں پیچھے رہ جانے سے پہلے کرتے رہے ہیں جن میں مختلف جنگوں میں شرکت بھی کی اور 'کچھ برے' سے مراد یہی تبوک کے موقع پر ان کا پیچھے رہنا۔ [3] اللہ تعالٰی کی طرف سے امید، یقین کا فائدہ دیتی ہے، یعنی اللہ تعالٰی ان کی طرف رجوع فرما کر ان کے اعتراف گناہ کو توبہ کے قائم مقام قرار دے کر انہیں معاف فرما دیا۔