سورہ As-Sajdah — آیت 29
سجدہ · 32:29 · 29/30
قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِيمَـٰنُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
Qul yawma alfathi la yanfaAAuallatheena kafaroo eemanuhum wala hum yuntharoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی
محمد جوناگڑھی
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ان سے کہو”فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کےلیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہےاور پھر اُن کو کوئی مہلت نہ ملے گی۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ فیصلے کے دن ان لوگوں کا ایمان لانا انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ہی (اس وقت) انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی.[1]
حواشی
[1] اس یوم الفتح سے مراد آخرت کے فیصلے کا دن ہے، جہاں ایمان مقبول ہوگا اور نہ مہلت دی جائے گی۔ فتح مکہ کا دن مراد نہیں ہے کیونکہ اس دن تو طلقاء کا اسلام قبول کر لیا گیا تھا، جن کی تعداد تقریباً دو ہزار تھی۔ (ابن کثیر) طلقاء سے مراد، وہ اہل مکہ ہیں جن کو نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فتح مکہ والے دن، سزا وتعزیر کے بجائے معاف فرما دیا تھا اور یہ کہہ کر آزاد کر دیا تھا کہ آج تم سے تمہاری پچھلی ظالمانہ کاروائیوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چنانچہ ان کی اکثریت مسلمان ہو گئی تھی۔