سورہ Ar-Rahman — آیت 29

مہربان · 55:29 · 29/78

يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ

Yas-aluhu man fee assamawatiwal-ardi kulla yawmin huwa fee sha'n

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

آسمان اور زمین میں جتنے لوگ ہیں سب اسی سے مانگتے ہیں۔ وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے

محمد جوناگڑھی

سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

زمین اور آسمانوں میں جو  بھی ہیں سب اپنی حا جتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

سب آسمان وزمین والے اسی سے مانگتے ہیں[1] ۔ ہر روز وه ایک شان میں ہے.[2]

حواشی

[1] یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔ [2] ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفایاب، کسی کو تونگر بنا رہا ہے تو کسی تونگرکو فقیر۔ کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کرر ہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے، کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کررہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امر ومشیت سےہو رہے ہیں اور شب وروز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ۔