سورہ An-Nur — آیت 53

نور · 24:53 · 53/64

۞ وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ ۖ قُل لَّا تُقْسِمُوا۟ ۖ طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

Waaqsamoo billahi jahda aymanihimla-in amartahum layakhrujunna qul la tuqsimoo taAAatunmaAAroofatun inna Allaha khabeerun bima taAAmaloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ، پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے)۔ بےشک خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

محمد جوناگڑھی

بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہ (منافق)اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ”آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نِکل کھڑے ہوں۔“ اِن سے کہو”قسمیں نہ کھاوٴ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے ، تمہارے کرتُوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور وہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں اپنی امکانی حد تک پکی قسمیں کہ اگر آپ ﷺ انہیں حکم دیں گے تو وہ ضرور نکلیں گے آپ ﷺ ان سے کہیے کہ تم لوگ قسمیں نہ کھاؤ بس معروف طریقے سے اطاعت اختیار کرو یقیناً جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں[1] کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے[2]۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے.[3]

حواشی

[1] جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ، میں جَهْدٌ فعل محذوف کا مصدر ہے جو بطور تاکید کے ہے، يَجْهَدُونَ أَيْمَانَهُمْ جَهْدًا یا یہ حال کی وجہ سے منصوب ہے یعنی مُجْتَهِدِينَ فِي أَيْمَانِهِمْ، مطلب یہ ہے کہ اپنی وسعت بھر قسمیں کھا کر کہتے ہیں (فتح القدیر)۔ [2] اور وہ یہ ہے کہ جس طرح تم قسمیں جھوٹی کھاتے ہو، تمہاری اطاعت بھی نفاق پر مبنی ہے۔ بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تمہارا معاملہ طاعت معروفہ ہونا چاہیئے۔ یعنی معروف میں بغیر کسی قسم کے حلف کے اطاعت، جس طرح مسلمان کرتے ہیں، پس تم بھی ان کی مثل ہوجاؤ۔ (ابن کثیر)۔ [3] یعنی وہ تمہارے سب کے حالات سے باخبر ہے۔ کون فرمانبردار ہے اور کون نافرمان؟ پس حلف اٹھا کر اطاعت کے اظہار کرنے سے، جب کہ تمہارے دل میں اس کے خلاف عزم ہو، تم اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے، اس لئے کہ وہ پوشیدہ ہے، پوشیدہ تر بات کو بھی جانتا ہے اور وہ تمہارے سینوں میں پلنے والے رازوں سے بھی آگاہ ہے اگرچہ تم زبان سے اس کے خلاف اظہار کرو!۔