سورہ An-Nur — آیت 54
نور · 24:54 · 54/64
قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ
Qul ateeAAoo Allaha waateeAAooarrasoola fa-in tawallaw fa-innama AAalayhi mahummila waAAalaykum ma hummiltum wa-in tuteeAAoohutahtadoo wama AAala arrasooli illaalbalaghu almubeen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
محمد جوناگڑھی
کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کہو، "اللہ کے مطیع بنو اور رسولؐ کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسولؐ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے"
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ تم لوگ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی پھر اگر تم منہ موڑتے ہو تو سن رکھو کہ ہمارے نبی ﷺ پر صرف وہی ذمہ داری ہے جو ان ﷺ پر ڈالی گئی ہے اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے اور اگر تم ان ﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو گے تو تبھی تم ہدایت یافتہ ہو گے۔ اور (ہمارے) رسول ﷺ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے سوائے صاف صاف پہنچا دینے کے