سورہ Al-Waqi'ah — آیت 75

واقعہ ہونے والی قیامت · 56:75 · 75/96

۞ فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ

Fala oqsimu bimawaqiAAi annujoom

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم

محمد جوناگڑھی

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں  تاروں کے مواقع کی

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پس نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی.[1]

حواشی

[1] فَلا أُقْسِمُ میں ”لا“ زائد ہے جو تاکید کے لیے ہے۔ یا یہ زائد نہیں ہے۔ بلکہ ماقبل کی کسی چیز کی نفی کےلیے ہے۔ یعنی یہ قرآن کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے . . . مَوَاقِعُ النُّجُومِ سے مراد ستاروں کے طلوع و غروب کی جگہیں اور ان کی منزلیں اور مدارہیں، بعض نے ترجمہ کیا ہے ”قسم کھاتا ہوں آیتوں کے اترنے کی پیغمبروں کے دلوں میں“ (موضح القرآن) یعنی نجوم، قرآن کی آیات اور مواقع، قلوب انبیا۔ بعض نے اس کا مطلب قرآن کا آہستہ آہستہ بتدریج اترنا اور بعض نے قیامت والے ستاروں کا جھڑنا مراد لیا ہے۔ (ابن کثیر)۔