سورہ Al-Kahf — آیت 44

غار · 18:44 · 44/110

هُنَالِكَ ٱلْوَلَـٰيَةُ لِلَّهِ ٱلْحَقِّ ۚ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَخَيْرٌ عُقْبًا

Hunalika alwalayatu lillahialhaqqi huwa khayrun thawaban wakhayrun AAuqba

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے۔ اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے

محمد جوناگڑھی

یہیں سے (ﺛابت ہے) کہ اختیارات اللہ برحق کے لئے ہیں وه ﺛواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت ہی بہتر ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہاں تو تمام اختیار اللہ ہی کا ہے جو الحق ہے وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے عاقبت کے اعتبار سے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

یہیں سے (ﺛابت ہے) کہ اختیارات[1] اللہ برحق کے لئے ہیں وه ﺛواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت[2] ہی بہتر ہے.

حواشی

[1] وَلايَةٌ ۔ کے معنی موالات اور نصرت کے ہیں یعنی اس مقام پر ہر مومن و کافر کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کسی کی مدد کرنے پر اور اس کے عذاب سے بچانے پر قادر نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ پھر اس موقع پر بڑے بڑے سرکش اور جبار بھی اظہار ایمان پر مجبور ہو جاتے ہیں، گو اس وقت کا ایمان نافع اور مقبول نہیں۔ جس طرح قرآن نے فرعون کی بابت نقل کیا ہے کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو کہنے لگا۔ «آمَنْتُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» (سورۂ یونس:90)۔ ”میں اس اللہ پر ایمان لایا جس پر بنو اسرائیل ایمان رکھتے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں“۔ دوسرے کفار کی بابت فرمایا گیا: ”جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہا ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن کو ہم اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ان کا انکار کرتے ہیں“۔ (سورۃ المومن: 84) اگر ولایت واو کے کسرے کے ساتھ ہو تو پھر اس کے معنی حکم اور اختیارات کے ہیں جیسا کہ ترجمے میں یہی معنی اختیار کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر۔ [2] یعنی وہی اپنے دوستوں کو بہتر بدلہ دینے والا اور حسن عاقبت سے مشرف کرنے والا ہے۔