سورہ Al-Kahf — آیت 45
غار · 18:45 · 45/110
وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ ٱلرِّيَـٰحُ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ مُّقْتَدِرًا
Wadrib lahum mathala alhayatiaddunya kama-in anzalnahu mina assama-ifakhtalata bihi nabatu al-ardi faasbahahasheeman tathroohu arriyahu wakanaAllahu AAala kulli shay-in muqtadira
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
محمد جوناگڑھی
ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزه ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وه چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور اے نبی ؐ ، اِنہیں حیاتِ دُنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاوٴ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور بیان کیجیے ان کے لیے مثال دنیا کی زندگی کی جیسے پانی کہ ہم نے اسے اتارا آسمان سے پھر اس کے ساتھ مل جل کر نکل آیا زمین کا سبزہ پھر وہ ہوگیا چورا چورا اڑائے پھرتی ہیں اسے ہوائیں اور اللہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اس سے زمین کا سبزه ملا جلا (نکلا) ہے، پھر آخر کار وه چورا چورا ہوجاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے.[1]
حواشی
[1] اس آیت میں دنیا کی بے ثباتی اور ناپائداری کو کھیتی کی مثال کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ کھیتی میں لگے پودوں اور درختوں پر جب آسمان سے بارش برستی ہے تو پانی سے ملکر کھیتی لہلہا اٹھتی ہے، پودے اور درخت حیات نو سے شاداب ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر ایک وقت آتا ہے کہ کھیتی سوکھ جاتی ہے۔ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے یا فصل پک جانے کے سبب تو پھر ہوائیں اس کو اڑائے پھرتی ہیں۔ ہوا کا ایک جھونکا کبھی اسے دائیں اور کبھی بائیں جانب جھکا دیتا ہے۔ دنیا کی زندگی بھی ہوا کے ایک جھونکے یا اس پانی کے بلبلے یا کھیتی ہی کی طرح ہے، جو اپنی چند روزہ بہار دکھا کر فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ اور یہ سارے تصرفات اس ہستی کے ہاتھ میں ہیں جو ایک ہے اور ہرچیز پر قادر ہے۔ اللہ تعالٰی نے دنیا کی مثال قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان فرمائی ہے۔ (مثلًا :یونس:25، الزمر:21، حدید: 50، وغیرہا من الآیات)