سورہ Al-Baqarah — آیت 7
گائے · 2:7 · 7/286
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَـٰرِهِمْ غِشَـٰوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Khatama Allahu AAala quloobihimwaAAala samAAihim waAAala absarihim ghishawatunwalahum AAathabun AAatheem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے
محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پرده ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ نے اُن کے دلوں اور ان کے کانوں پر مُہرلگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیاہے۔وہ سخت سزا کے مستحق ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ ) اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پرده ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔[1]
حواشی
[1] یہ ان کے عدم ایمان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ کفرومعصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہوچکی ہے، ان کے کان حق بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں تو اب وہ ایمان کس طرح لاسکتے ہیں؟ ایمان تو ان ہی لوگوں کے حصے میں آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے اور ان سے معرفت کردگار حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ تو اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مومن جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرکے گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا دل پہلے کی طرح صاف شفاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کرتا جاتا ہے تو وہ نقطہ سیاہ پھیل کر اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: ”یہی وہ زنگ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے «كَلَّاۖ بَلۡۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ» (المطففين: 14) یعنی ”ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔“ (ترمذی، تفسیر سورۂ مطففین) اسی کیفیت کو قرآن نے ”ختم“ (مہر لگ جانے) سے تعبیر فرمایا ہے، جو ان کی مسلسل بداعمالیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔