سورہ Al-Baqarah — آیت 3
گائے · 2:3 · 3/286
ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ يُنفِقُونَ
Allatheena yu'minoona bilghaybiwayuqeemoona assalata wamimma razaqnahumyunfiqoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
محمد جوناگڑھی
جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جو غیب پر ایمان لاتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں،جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں[1] اور نماز کو قائم رکھتے ہیں[2] اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں۔[3]
حواشی
[1] أُمُورٌ غَيْبِيَّةٌ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ادراک عقل وحواس سے ممکن نہیں۔ جیسے ذات باری تعالیٰ، وحی الٰہی، جنت، دوزخ، ملائکہ، عذاب قبر اور حشراجساد وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول (صلى الله عليه وسلم) کی بتلائی ہوئی ماورائے عقل واحساس باتوں پر یقین رکھنا، جزو ایمان ہے اور ان کا انکار کفروضلالت ہے۔ [2] اقامت صلوٰۃ سے مراد پابندی سے اور سنت نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا ہے، ورنہ نماز تو منافقین بھی پڑھتے تھے۔ [3] إِنْفَاقٌ کا لفظ عام ہے، جو صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے۔ اہل ایمان حسب استطاعت دونوں میں کوتاہی نہیں کرتے، بلکہ ماں باپ اور اہل وعیال پر صحیح طریقے سے خرچ کرنا بھی اس میں داخل ہے اور باعث اجر وثواب ہے۔