سورہ Al-Baqarah — آیت 138

گائے · 2:138 · 138/286

صِبْغَةَ ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُۥ عَـٰبِدُونَ

Sibghata Allahi waman ahsanumina Allahi sibghatan wanahnu lahu AAabidoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں

محمد جوناگڑھی

اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کہو:”اللہ کا رنگ اختیار کرو۔ اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

ہم نے تو اختیار کرلیا ہے اللہ کے رنگ کو اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوگا ؟ اور ہم تو بس اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟[1] ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

حواشی

[1] یسائیوں نے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا ہے جو ہر عیسائی بچے کو بھی اور ہر اس شخص کو بھی دیا جاتا ہے جس کو عیسائی بنانا مقصود ہوتا ہے، اس رسم کا نام ان کے ہاں (بپتسمہ) ہے۔ یہ ان کے نزدیک بہت ضروری ہے، اس کے بغیر وہ کسی کو پاک تصور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا کہ اصل رنگ تو اللہ کا رنگ ہے، اس سے بہتر کوئی رنگ نہیں اور اللہ کے رنگ سے مراد وہ دین فطرت یعنی دین اسلام ہے، جس کی طرف ہر نبی نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی۔ یعنی دعوت توحید۔