سورہ Al-An'am — آیت 118

مویشی · 6:118 · 118/165

فَكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِـَٔايَـٰتِهِۦ مُؤْمِنِينَ

Fakuloo mimma thukira ismuAllahi AAalayhi in kuntum bi-ayatihimu'mineen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھا لیا کرو

محمد جوناگڑھی

سو جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاوٴ۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پس کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

سو جس جانور پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔[1]

حواشی

[1] یعنی جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح یا نحر کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے، اسے کھالو بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہوں جن کا کھانا مباح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس جانور پر عمداً ان موقعوں پر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال وطیب نہیں البتہ اس سے ایسی صورت مستثنیٰ ہے کہ جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا یا نہیں، اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) نے رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد وہ اعرابی تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم وتربیت سے پوری طرح بہرہ ور بھی نہیں تھے) ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا یا نہیں ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا«سَمُّوا عَلَيْهِ أَنْتُمْ وَكُلُوا»(صحيح بخاري- باب ذبيحة الأعراب نمبر5507) تم اللہ کا نام لے کر اسے کھالو یعنی التباس (شبہ) کی صورت میں یہ رخصت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے جانور کا گوشت بسم اللہ پڑھ لینے سے حلال ہوجائے گا۔ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی منڈیوں اور دکانوں پر ملنے والا گوشت حلال ہے۔ ہاں اگر کسی کو وہم اور التباس ہو تو وہ کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔