سورہ Al-An'am — آیت 119

مویشی · 6:119 · 119/165

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ

Wama lakum alla ta'kuloo mimmathukira ismu Allahi AAalayhi waqad fassalalakum ma harrama AAalaykum illa ma idturirtumilayhi wa-inna katheeran layudilloona bi-ahwa-ihimbighayri AAilmin inna rabbaka huwa aAAlamu bilmuAAtadeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ حالانکہ جو چیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھیرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں (بے شک ان کو نہیں کھانا چاہیے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہو جاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکا رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

محمد جوناگڑھی

اور آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتادی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے، مگر وه بھی جب تم کو سخت ضرورت پڑجائے تو حلال ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے خیاﻻت پر بلا کسی سند کے گمراه کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاوٴ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، حالانکہ جب چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دُوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے اُن کی تفصیل وہ تمہیں بتاچکا ہے۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور تمہیں کیا ہے کہ تم نہیں کھاتے وہ چیزیں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اللہ تفصیل بیان کرچکا ہے تمہارے لیے ان چیزوں کی جو حرام کی گئی ہیں تم پر سوائے اس چیز کے کہ تم مجبور ہوجاؤ اس (کے کھانے) کے لیے اور یقیناً بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بغیر علم کے اپنی خواہشات کی بنا پر لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں۔ یقیناً آپ ﷺ کا رب خوب جانتا ہے ان حد سے تجاوز کرنے والوں کو۔