سورہ Taha — آیت 122

طٰہٰ · 20:122 · 122/135

ثُمَّ ٱجْتَبَـٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدَىٰ

Thumma ijtabahu rabbuhu fatabaAAalayhi wahada

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

محمد جوناگڑھی

پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر اس کے رب نے اسے پسند کرلیا اس کی توبہ قبول فرمائی اور اسے ہدایت بخشی

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی رہنمائی کی.[1]

حواشی

[1] اس سے بعض لوگ استدال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم (عليه السلام) سے مذکورہ غلطیوں کا ہونا، نبوت سے قبل ہوا، اور نبوت سے اس کے بعد آپ کو نوازا گیا۔ لیکن ہم نے گزشتہ صفحے میں اس ”معصیت“ کی حقیقت بیان کی ہے، وہ عصمت کے منافی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایسا سہو و نسیان، جس کا تعلق تبلیغ رسالت اور تشریع سے نہ ہو، بلکہ ذاتی افعال سے ہو اور اس میں بھی اس کا سبب ضعف ارادہ ہو تو یہ دراصل وہ معصیت ہی نہیں ہے، جس کی بناء پر انسان غضب الٰہی کا مستحق بنتا ہے۔ اس پر جو معصیت کا اطلاق کیا گیا ہے تو محض ان کی عظمت شان اور مقام بلند کی وجہ سے کہ بڑوں کی معمولی غلطی کو بھی بڑا سمجھ لیا جاتا ہے، اس لئے آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اس کے بعد اسے نبوت کے لئے چن لیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ندامت اور توبہ کے بعد ہم نے اسے پھر اسی مقام پر فائز کر دیا، جو پہلے انہیں حاصل تھا۔ ان کو زمین پر اتار نے کا فیصلہ، ہماری مشیت اور حکمت و مصلحت پر مبنی تھا، اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ہمارا غضب ہے جو آدم پر نازل ہوا ہے۔