سورہ Saba — آیت 9
سبا · 34:9 · 9/54
أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
Afalam yaraw ila ma baynaaydeehim wama khalfahum mina assama-i wal-ardiin nasha' nakhsif bihimu al-arda aw nusqitAAalayhim kisafan mina assama-i inna fee thalikalaayatan likulli AAabdin muneeb
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کیا انہوں نے اس کو نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے یعنی آسمان اور زمین۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں۔ اس میں ہر بندے کے لئے جو رجوع کرنے والا ہے ایک نشانی ہے
محمد جوناگڑھی
کیا پس وه اپنے آگے پیچھے آسمان وزمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں، یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دَھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گِرا دیں۔ در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں یقینا اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہو۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کیا پس وه اپنے آگے پیچھے آسمان وزمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں[1] ؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں[2]، یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو.
حواشی
[1] یعنی اس پر غور وفکر نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ ان کی زجر وتوبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہےکہ آخرت کا یہ انکار، آسمان وزمین کی پیدائش میں غوروفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ جو ذات آسمان جیسی چیز، جس کی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز، جس کا طول وعرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے اپنی ہی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کردینا اور اسے دوبارہ اسی حالت میں لے آنا، جس میں وہ پہلے تھی، کیوں کر ناممکن ہے؟ [2] یعنی یہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے، ایک اللہ کے کمال قدرت کا بیان جو ابھی مذکور ہوا، دوسری، کفار کے لئے تنبیہ وتہدید، کہ جو اللہ آسمان وزمین کی تخلیق پر اس طرح قادر ہے کہ ان پر اور ان کے مابین ہر چیز پر اس کا تصرف اور غلبہ ہے، وہ جب چاہے ان پر اپنا عذاب بھیج کر ان کو تباہ کرسکتا ہے۔ زمین میں دھنسا کر بھی، جس طرح قارون کو دھنسایا یا آسمان کے ٹکڑے گرا کر، جس طرح اصحاب الایکہ کو ہلاک کیا گیا۔