سورہ Saba — آیت 10
سبا · 34:10 · 10/54
۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَـٰجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ
Walaqad atayna dawoodaminna fadlan ya jibalu awwibeemaAAahu wattayra waalanna lahu alhadeed
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے برتری بخشی تھی۔ اے پہاڑو ان کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو (ان کا مسخر کردیا) اور ان کے لئے ہم نے لوہے کو نرم کردیا
محمد جوناگڑھی
اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہم نے داوٴدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ (ہم نے حکم دیا کہ)اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو(اور یہی حکم ہم نے)پرندوں کو دیا۔ ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ہم نے دائود ؑ کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا تھا) اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ہم نے داؤد پر اپنا فضل کیا[1] ، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی[2] (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کردیا.[3]
حواشی
[1] یعنی نبوت کے ساتھ بادشاہت اور کئی امتیازی خوبیوں سے نوازا۔ [2] ان میں سے ایک حسن صوت کی نعمت تھی، جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتے تو پتھر کے ٹھوس پہاڑ بھی تسبیح خوانی میں مصروف ہو جاتے، اڑتے پرندے ٹھہرجاتے اور زمزمہ خواں ہوجاتے اوّبی کے معنی ہیں تسبیح دہراؤ۔ یعنی پہاڑوں اور پرندوں کو ہم نے کہا، چنانچہ یہ بھی داود (عليه السلام) کے ساتھ مصروف تسبیح ہوجاتے وَالطَّيْرَ کا عطف یا جبال کے محل پر ہے۔ اس لئے کہ جبال تقدیراً منصوب ہے۔ اصل عبارت اسی طرح ہے نَادَيْنَا الْجِبَالَ وَالطِّيْرَ(ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو پکارا) یا پھر اس کا عطف فضلاً پر ہے اور معنی ہوں گے وَسَخَّرْنَا لَهُ الطَّيْر َ (اور ہم نے پرندے ان کے تابع کردیئے)۔ (فتح القدیر)۔ [3] یعنی لوہے کو آگ میں تپائے اور ہتھوڑی سے کوٹے بغیر، اسے موم، گوندھے ہوئے آٹے اور گیلی مٹی کی طرح، جس طرح چاہتے موڑ لیتے، بٹ لیتے اور جو چاہتے بنا لیتے۔