سورہ Saba — آیت 49

سبا · 34:49 · 49/54

قُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ ٱلْبَـٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ

Qul jaa alhaqqu wamayubdi-o albatilu wama yuAAeed

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا

محمد جوناگڑھی

کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ حق آگیا ہے } اور باطل نہ تو (کسی چیز کی) ابتدا کرسکتا ہے اور نہ ہی اعادہ۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا.[1]

حواشی

[1] حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفرو شرک ہے۔ مطلب ہے اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے، جس سے باطل مضمحل اور ختم ہوگیا ہے، اب وہ سراٹھانے کے قابل نہیں رہا، جس طرح فرمایا «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ» (سورة الأنبياء: 18) حدیث میں آتا ہے کہ جس دن مکہ فتح ہوا، نبی (صلى الله عليه وسلم) خانہ کعبہ میں داخل ہوئے ، چاروں طرف بت نصب تھے، آپ (صلى الله عليه وسلم) کمان کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور یہ آیت اور سورۂ بنی اسرائیل کی آیت «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ» پڑھتے جاتے۔ (صحيح بخاري، كتاب الجهاد، باب إزالة الأصنام من حول الكعبة)۔