سورہ Saba — آیت 46

سبا · 34:46 · 46/54

۞ قُلْ إِنَّمَآ أَعِظُكُم بِوَٰحِدَةٍ ۖ أَن تَقُومُوا۟ لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَٰدَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا۟ ۚ مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَىْ عَذَابٍ شَدِيدٍ

Qul innama aAAithukumbiwahidatin an taqoomoo lillahi mathna wafuradathumma tatafakkaroo ma bisahibikum min jinnatin inhuwa illa natheerun lakum bayna yaday AAathabinshadeed

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کہہ دو کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہوجاؤ پھر غور کرو۔ تمہارے رفیق کو سودا نہیں وہ تم کو عذاب سخت (کے آنے) سے پہلے صرف ڈرانے والے ہیں

محمد جوناگڑھی

کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے نبیؐ ، اِن سے کہوکہ”میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مِل کر اپنا دماغ لڑاوٴ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جُنون کی ہو ؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبّہ کرنے والا ہے۔ “

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے پھر غور کرو تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ نہیں ہے } وہ نہیں ہیں مگر تمہارے لیے ایک خبردار کرنے والے ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کہہ دیجیئے! کہ میں تمہیں صرف ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم اللہ کے واسطے (ضد چھوڑ کر) دو دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر سوچو تو سہی، تمہارے اس رفیق کو کوئی جنون نہیں[1] ، وه تو تمہیں ایک بڑے (سخت) عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے واﻻ ہے.[2]

حواشی

[1] یعنی میں تمہیں تمہارے موجودہ طرزعمل سے ڈراتا ہوں اور ایک ہی بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ تم ضد، اور انانیت چھوڑ کر صرف اللہ کے لئے ایک ایک دو دو ہو کر میری بابت سوچو کہ میری زندگی تمہارے اندر گزری ہے اوراب بھی جو دعوت میں دے رہا ہوں کیا اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے اس بات کی نشاندہی ہو کہ میرے اندر دیوانگی ہے؟ تم اگر عصبیت اور خواہش نفس سے بالا ہو کر سوچو گے تو یقیناً تم سمجھ جاؤ گے کہ تمہارے رفیق کے اندر کوئی دیوانگی نہیں ہے۔ [2] یعنی وہ تو صرف تمہاری ہدایت کے لئے آیا ہے تاکہ تم اس عذاب شدید سے بچ جاؤ جو ہدایت کا راستہ نہ اپنانے کی وجہ سے تمہیں بھگتنا پڑے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) ایک دن صفا پہاڑی پرچڑھ گئے اور فرمایا ”یاصباحاہ“ جسے سن کر قریش جمع ہوگئے، آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”بتلاؤ، اگر میں تمہیں خبردوں کہ دشمن صبح یا شام کو تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟“ انہوں نے کہا (کیوں نہیں) آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”تو پھر سن لو کہ میں تمہیں سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں“ یہ سن کر ابولہب نے کہا تَبًّا لَكَ! أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا (تیرے لئے ہلاکت ہو، کیا اس لئے تونے ہمیں جمع کیا تھا؟) جس پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ نازل فرمائی۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة سبأ)۔