سورہ Nuh — آیت 7

نوح · 71:7 · 7/28

وَإِنِّى كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوٓا۟ أَصَـٰبِعَهُمْ فِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَٱسْتَغْشَوْا۟ ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا۟ وَٱسْتَكْبَرُوا۟ ٱسْتِكْبَارًا

Wa-innee kullama daAAawtuhumlitaghfira lahum jaAAaloo asabiAAahum fee athanihimwastaghshaw thiyabahum waasarroo wastakbarooistikbara

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

جب جب میں نے ان کو بلایا کہ (توبہ کریں اور) تو ان کو معاف فرمائے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور کپڑے اوڑھ لئے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے

محمد جوناگڑھی

میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تُو انہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اَڑ گئے اور بڑا تکبّر کیا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے اور وہ ضد پر اَڑ گئے اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑا استکبار۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لیے بلایا[1] انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں[2] اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا[3] اور اڑ گئے[4] اور بڑا تکبر کیا.[5]

حواشی

[1] یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ [2] تاکہ میری آواز سن سکیں۔ [3] تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں، یہ ان کی طرف سے شدت عداوت کا اور وعظ و نصیحت سے بے نیازی کا اظہار ہے۔ بعض کہتے ہیں، اپنے کپڑوں سے ڈھانک لینے کا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر ان کو پہچان نہ سکے اور انہیں قبولیت دعوت کے لئے مجبور نہ کرے۔ [4] یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ [5] قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔