سورہ Hud — آیت 84

حود · 11:84 · 84/123

۞ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ وَلَا تَنقُصُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ ۚ إِنِّىٓ أَرَىٰكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ

Wa-ila madyana akhahumshuAAayban qala ya qawmi oAAbudoo Allaha malakum min ilahin ghayruhu wala tanqusooalmikyala walmeezana innee arakumbikhayrin wa-innee akhafu AAalaykum AAathaba yawminmuheet

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) تو اُنہوں نے کہا کہ اے قوم! خدا ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ میں تو تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور (اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو) مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیر کر رہے گا

محمد جوناگڑھی

اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو میں تو تمہیں آسوده حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اُ س نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لیے گا

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور مدین کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیب کو آپ نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود نہیں اس کے سوا اور نہ کم کرو ماپ اور تول کو میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں لیکن (اگر تم لوگ ان غلط کاریوں سے باز نہ آئے تو) مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک ایسے دن کے عذاب کا جو تمہیں گھیر لے گا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ہم نے مدین والوں[1] کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو[2] میں تو تمہیں آسوده حال دیکھ رہا ہوں[3] اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے.[4]

حواشی

[1] مدین کی تحقیق کے لئے دیکھئے سورۃ الاعراف، آیت 85 کا حاشیہ۔ [2] توحید کی دعوت دینے کے بعد اس قوم میں جو نمایاں اخلاقی خرابی۔ ناپ تول میں کمی کی تھی اس سے انہیں منع فرمایا۔ ان کا معمول بن چکا تھا جب ان کے پاس فروخت کندہ (بائع) اپنی چیز لے کر آتا تو اس سے ناپ اور تول میں زائد چیز لیتے اور جب خریدار (مشتری) کو کوئی چیز فروخت کرتے تو ناپ میں بھی کمی کر کے دیتے اور تول میں ڈنڈی مار لیتے۔ [3] یہ اس منع کرنے کی علت ہے کہ جب اللہ تعالٰی تم پر اپنا فضل کر رہا ہے اور اس نے تمہیں آسودگی اور مال و دولت سے نوازا ہے تو پھر تم یہ قبیح حرکت کیوں کرتے ہو۔ [4] یہ دوسری علت ہے کہ اگر تم اپنی اس حرکت سے باز نہ آئے تو پھر اندیشہ ہے کہ قیامت والے دن کے عذاب سے تم نہ بچ سکو۔ گھیرنے والے دن سے مراد قیامت کا دن ہے کہا اس دن کوئی گناہ گار مواخذہ الہی سے بچ سکے گا نہ بھاگ کر کہیں چھپ سکے گا۔