سورہ Fussilat — آیت 11

مفصل · 41:11 · 11/54

ثُمَّ ٱسْتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ٱئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَآ أَتَيْنَا طَآئِعِينَ

Thumma istawa ila assama-iwahiya dukhanun faqala laha walil-ardii'tiya tawAAan aw karhan qalata ataynata-iAAeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

محمد جوناگڑھی

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت دھواں تھا۔ اُس نے آسمان اور زمین سے کہا”وجود میں آجاوٴ، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔“ دونوں نے کہا”ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور ابھی وہ ایک دھواں سا تھا تو اس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں چلے آئو خوشی سے یا جبراً ! ان دونوں نے کہا کہ ہم حاضر ہیں پوری آمادگی کے ساتھ۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وه دھواں (سا) تھا پس اس سے اور زمین سے فرمایا کہ تم دونوں خوشی سے آؤ یا ناخوشی سے[1] دونوں نے عرض کیا ہم بخوشی حاضر ہیں.

حواشی

[1] یہ آنا کس طرح تھا؟ اس کی کیفیت نہیں بیان کی جاسکتی۔ یہ دونوں اللہ کےپاس آئے جس طرح اس نےچاہا۔ بعض نے اس کا مفہوم لیا ہے کہ میرے حکم کا اطاعت کرو، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم حاضرہیں۔ چنانچہ اللہ نے آسمان کو حکم دیا، سورج، چاند اور ستارے نکال اور زمین کو کہا، نہریں جاری کردے اور پھل نکال دے (ابن کثیر) یا مفہوم ہے کہ تم دونوں وجود میں آجاؤ۔