سورہ Fussilat — آیت 10

مفصل · 41:10 · 10/54

وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِىَ مِن فَوْقِهَا وَبَـٰرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَآ أَقْوَٰتَهَا فِىٓ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِينَ

WajaAAala feeha rawasiya minfawqiha wabaraka feeha waqaddara feehaaqwataha fee arbaAAati ayyamin sawaanlissa-ileen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور اسی نے زمین میں اس کے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں۔ (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

محمد جوناگڑھی

اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے اوراس میں برکت رکھ دی اوراس میں (رہنے والوں کی) غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی (صرف) چار دن میں، ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُس نے (زمین کو وجود میں لانے کے بعد)اوپر سے اس پر پہاڑ جمادیے اور اس میں برکتیں رکھ  دیں اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب و حاجت کے مطابق ٹھیک اندازے سے خوراک کا سامان مہیّا کر دیا۔ یہ سب کام چار دن میں ہو گئے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اس میں اس نے بنائے پہاڑوں کے لنگر اس کے اوپر سے اور اس میں برکات پیدا کیں اور اس میں اندازے مقررکیے اس کی غذائوں کے چار دنوں میں تمام سائلین کے لیے برابر

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور اس نے زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیے[1] اوراس میں برکت رکھ دی[2] اوراس میں (رہنے والوں کی) غذاؤں کی تجویز بھی اسی میں کر دی[3] (صرف) چار دن میں[4]، ضرورت مندوں کے لیے یکساں طور پر.[5]

حواشی

[1] یعنی پہاڑوں کو زمین میں سےہی پیدا کر کے ان کواس کے اوپر گاڑ دیا تاکہ زمین ادھر یا ادھر نہ ڈولے۔ [2] یہ اشارہ ہے پانی کی کثرت، انواع و اقسام کے رزق، معدنیات اوردیگراسی قسم کی اشیا کی طرف یہ زمین کی برکت ہے، کثرت خیر کا نام ہی برکت ہے۔ [3] أَقْوَاتٌ ، قُوتٌ (غذا، خوراک) کی جمع ہے یعنی زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات کی خوراک اس میں مقدر کر دی ہے یا بند وبست کر دیا ہے۔ اور رب کی اس تقدیر یا بند وبست کا سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ کوئی زبان اسے بیان نہیں کرسکتی، کوئی قلم اسے رقم نہیں کر سکتا اور کوئی کیلکولیٹر اسےگن نہیں سکتا۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہر زمین کے دوسرے حصوں میں پیدا نہیں ہو سکتیں۔ تاکہ ہر علاقے کی یہ یہ مخصوص پیداواران ان علاقوں کی تجارت و معیشت کی بنیادیں بن جائیں۔ چنانچہ یہ مفہوم بھی اپنی جگہ صحیح اوربالکل حقیقت ہے۔ [4] یعنی تخلیق کے پہلے دو دن اوروحی کے دو دن سارے دن ملاکے یہ کل چار دن ہوئے، جن میں یہ سارا عمل تکمیل کو پہنچا۔ [5] سَوَاءً کا مطلب ہے، ٹھیک چار دن میں۔ یعنی پوچھنے والوں کو بتلا دو کہ تخلیق اور دَحْوٌ کایہ عمل ٹھیک چار دن میں ہوا۔ یا پورا یا برابر جواب ہے سائلین کے لیے۔