سورہ Ar-Ra'd — آیت 8
گرج · 13:8 · 8/43
ٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ ٱلْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ ۖ وَكُلُّ شَىْءٍ عِندَهُۥ بِمِقْدَارٍ
Allahu yaAAlamu ma tahmilukullu ontha wama tagheedu al-arhamuwama tazdadu wakullu shay-in AAindahu bimiqdar
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے)۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے
محمد جوناگڑھی
ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے۔ جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ با خبر رہتا ہے۔ ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ خوب جانتا ہے کہ ہر مادہ کیا اٹھائے ہوئے ہے اور (وہ جانتا ہے) جس قدر رحم سکڑتے ہیں یا بڑھتے ہیں اور ہرچیز اس کے ہاں اندازے کے مطابق ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے[1] اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی[2]، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے.[3]
حواشی
[1] رحم مادر میں کیا ہے، نر یا مادہ، خوبصورت یا بد صورت، نیک ہے یا بد، طویل العمر ہے یا قصیر العمر؟ یہ سب باتیں صرف اللہ تعالٰی ہی جانتا ہے۔ [2] اس سے مراد حمل مدت ہے جو عام طور پر ٩ مہینے ہوتی ہے لیکن گھٹتی بڑھتی بھی ہے، کسی وقت یہ مدت 10مہینے اور کسی وقت 7،8 مہینے ہو جاتی ہے، اس کا علم بھی اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ [3] یعنی کسی کی زندگی کتنی ہے؟ اسے رزق سے کتنا حصہ ملے گا؟ اس کا پورا اندازہ اللہ کو ہے۔