سورہ Ar-Ra'd — آیت 15

گرج · 13:15 · 15/43

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـٰلُهُم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْـَٔاصَالِ ۩

Walillahi yasjudu man fee assamawatiwal-ardi tawAAan wakarhan wathilaluhumbilghuduwwi wal-asal

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)

محمد جوناگڑھی

اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجده کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین و آسمان کی ہر چیز طوعًا و کرہًا سجدہ کر رہی ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح و شام اُس کے آگے جُھکتے ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے آمادگی کے ساتھ بھی اور مجبوراً بھی اور ان کے سائے بھی صبح وشام (اُسی کو سجدہ کرتے ہیں)

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجده کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام.[1]

حواشی

[1] اس میں اللہ تعالٰی کی عظمت و قدرت کا بیان ہے کہ ہرچیز پر اس کا غلبہ ہے اور ہرچیز اس کے ما تحت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے، چاہے مومنوں کی طرح خوشی سے کریں یا مشرکوں کی طرح ناخوشی سے۔ اور ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ «اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ» (النحل:48) ”کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے داہنے اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور وہ عاجزی کرتے ہیں“۔ اس سجدے کی کیفیت کیا ہے؟ یہ اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے یا دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ کافر سمیت تمام مخلوق اللہ کے حکم کے تابع ہے کسی میں اسی سے سرتابی کی مجال نہیں اللہ تعالٰی کسی کو صحت دے بیمار کرے غنی کر دے یا فقیر بنا دے زندگی دے یا موت سے ہمکنار کرے ان تکوینی احکام میں کسی کافر کو بھی مجال انکار نہیں۔