سورہ Ar-Ra'd — آیت 14

گرج · 13:14 · 14/43

لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَـٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَـٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ

Lahu daAAwatu alhaqqi wallatheenayadAAoona min doonihi la yastajeeboona lahum bishay-in illakabasiti kaffayhi ila alma-iliyablugha fahu wama huwa bibalighihi wamaduAAao alkafireena illa fee dalal

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے

محمد جوناگڑھی

اسی کو پکارنا حق ہے۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وه ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منھ میں پڑ جائے حاﻻنکہ وه پانی اس کے منھ میں پہنچنے واﻻ نہیں، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اسی کو پکارنا برحق ہے۔ رہیں وہ دُوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاوٴں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ اُنہیں پُکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تُو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچے والا نہیں۔ بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیرِ بے ہدف!

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اسی کا پکارنا حق ہے اور جن کو یہ لوگ پکار رہے ہیں اس کے سوا وہ ان کی دعا کو کسی طرح بھی قبول نہیں کرتے مگر جیسے کوئی پھیلا دے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس (کے منہ) تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا تو بالکل بےکار ہے