سورہ An-Nisa — آیت 69

عورت · 4:69 · 69/176

وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّـٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَـٰٓئِكَ رَفِيقًا

Waman yutiAAi Allaha warrasoolafaola-ika maAAa allatheena anAAama AllahuAAalayhim mina annabiyyeena wassiddeeqeenawashshuhada-i wassaliheenawahasuna ola-ika rafeeqa

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

محمد جوناگڑھی

اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جو اللہ اور رسُول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدّیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچّھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسّر آئیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول ﷺ کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام صدیقین شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے، وه ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔[1]

حواشی

[1] اللہ ورسول کی اطاعت کا صلہ بتلایا جا رہا ہے اس لئے حدیث میں آتا ہے ”الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ“ (صحيح بخاري كتاب الآداب باب نمبر 97، علامة حب الله عز وجل مسلم كتاب البر والصلة والآداب باب المرء مع من أحب حديث نمبر 1640) آدمی انہی کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی، حضرت انس (رضي الله عنه) فرماتے ہیں کہ صحابہ (رضي الله عنهم) کو جتنی خوشی اس فرمان رسول کو سن کر ہوئی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ جنت میں بھی رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کی رفاقت پسند کرتے تھے۔ اس کی شان نزول کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض صحابہ (رضي الله عنهم) نے نبی (صلى الله عليه وسلم) سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ہمیں اس سے فرو تر مقام ہی ملے گا اور یوں ہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اس صحبت ورفاقت اور دیدار سے محروم رہیں گے جو ہمیں دنیا میں حاصل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر ان کی تسلی کا سامان فرمایا۔ (ابن کثیر) بعض صحابہ (رضي الله عنهم) نے بطور خاص نبی (صلى الله عليه وسلم) سے جنّت میں رفاقت کی درخواست کی ”أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ“ جس پر نبی (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں کثرت سے نفلی نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی ”فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ“ (صحيح مسلم كتاب الصلاة باب فضل السجود والحث عليه حديث نمبر488) پس تم کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کرو۔ علاوہ ازیں ایک اور حدیث ہے ”التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ“ (ترمذي- كتاب البيوع باب ما جاء في التجار وتسمية النبي صلى الله عليه وسلم إياهم) راستباز، امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا، ”صدیقیت“ کمال ایمان وکمال اطاعت کا نام ہے، نبوّت کے بعد اس کا مقام ہے، امت محمدیہ میں اس مقام میں حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) سب سے ممتاز ہیں۔ اور اسی لئے بالاتفاق غیر انبیاء میں وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے بعد افضل ہیں، ”صالح“ وہ ہے جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کامل طور پر ادا کرے اور ان میں کوتاہی نہ کرے۔