سورہ An-Nisa — آیت 147

عورت · 4:147 · 147/176

مَّا يَفْعَلُ ٱللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَءَامَنتُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا

Ma yafAAalu Allahu biAAathabikumin shakartum waamantum wakana Allahu shakiranAAaleema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اگر تم (خدا کے شکرگزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ اور خدا تو قدرشناس اور دانا ہے

محمد جوناگڑھی

اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور باایمان رہو، اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے واﻻ اور پورا علم رکھنے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے منافقو ذراسوچو !) اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا ؟ اگر تم شکر اور ایمان کی روش اختیار کرو اور اللہ بہت ہی قدر دانی فرمانے والا اور ہر شے کا علم رکھنے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور باایمان رہو[1] ، اللہ تعالیٰ بہت قدر کرنے واﻻ اور پورا علم رکھنے واﻻ ہے۔[2]

حواشی

[1] شکر گزاری کا مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق برائیوں سے اجتناب اور عمل صالح کا اہتمام کرنا۔ یہ گویا اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ہے اور ایمان سے مراد اللہ کی توحید وربوبیت پر اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) کی رسالت پر ایمان ہے۔ [2] یعنی جو اس کا شکر کرے گا، وہ قدر کرے گا، جو دل سے ایمان لائے گا، وہ اس کو جان لے گا اور اس کے مطابق وہ بہترین جزا سے نوازے گا۔