سورہ An-Nisa — آیت 139
عورت · 4:139 · 139/176
ٱلَّذِينَ يَتَّخِذُونَ ٱلْكَـٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ ٱلْعِزَّةَ فَإِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا
Allatheena yattakhithoona alkafireenaawliyaa min dooni almu'mineena ayabtaghoona AAindahumualAAizzata fa-inna alAAizzata lillahi jameeAAa
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔ کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے
محمد جوناگڑھی
جن کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کیا یہ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جو اہل ایمان کو چھوڑ کر کفار کو اپنادوست بناتے ہیں حالانکہ عزت تو کلُ کی کل اللہ کے اختیار میں ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جن کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں[1] ، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔[2]
حواشی
[1] جس طرح سورۂ بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے کہ منافقین کافروں کے پاس جاکر یہی کہتے تھے کہ ہم تو حقیقت میں تمہارے ہی ساتھی ہیں، مسلمانوں سے تو ہم یوں ہی استہزا کرتے ہیں۔ [2] یعنی عزت، کافروں کے ساتھ موالات ومحبت سے نہیں ملے گی، کیونکہ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ عزت اپنے ماننے والوں کو ہی عطا فرماتا ہے، دوسرے مقام پر فرمایا ”مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا“ (فاطر: 10) جو عزت کا طالب ہے، تو (اسے سمجھ لینا چاہئے کہ) عزت سب کی سب اللہ کے لئے ہے، اور فرمایا ”وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ“ (المنافقون: 8) عزت اللہ کے لئے ہے اس کے رسول کے لئے ہے اور مومنین کے لئے ہے لیکن منافق نہیں جانتے، یعنی وہ نفاق کے ذریعے سے اور کافروں سے دوستی کے ذریعے سے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں، درآں حالیکہ یہ طریقہ ذلت وخواری کا ہے، عزت کا نہیں۔