سورہ An-Nisa — آیت 128

عورت · 4:128 · 128/176

وَإِنِ ٱمْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَٱلصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ ٱلْأَنفُسُ ٱلشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

Wa-ini imraatun khafat min baAAlihanushoozan aw iAAradan fala junaha AAalayhimaan yusliha baynahuma sulhan wassulhukhayrun waohdirati al-anfusu ashshuhhawa-in tuhsinoo watattaqoo fa-inna Allaha kanabima taAAmaloona khabeera

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور اگر کسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا اندیشہ ہو تم میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں کسی قرارداد پر صلح کرلیں۔ اور صلح خوب (چیز) ہے اور طبیعتیں تو بخل کی طرف مائل ہوتی ہیں اور اگر تم نیکوکاری اور پرہیزگاری کرو گے تو خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے

محمد جوناگڑھی

اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں جو صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناه نہیں۔ صلح بہت بہتر چیز ہے، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے۔ اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیزگاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ پوری طرح خبردار ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی( کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں، لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو اپنے شوہر سے زیادتی یا بےرخی کا تو ان دونوں پر کوئی الزام نہیں ہوگا کہ وہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح بہرحال بہتر ہے۔ البتہ انسانی نفس پر لالچ مسلط رہتا ہے اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو جان لو کہ اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔