سورہ An-Nisa — آیت 127

عورت · 4:127 · 127/176

وَيَسْتَفْتُونَكَ فِى ٱلنِّسَآءِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِى ٱلْكِتَـٰبِ فِى يَتَـٰمَى ٱلنِّسَآءِ ٱلَّـٰتِى لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلْوِلْدَٰنِ وَأَن تَقُومُوا۟ لِلْيَتَـٰمَىٰ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِهِۦ عَلِيمًا

Wayastaftoonaka fee annisa-iquli Allahu yufteekum feehinna wama yutlaAAalaykum fee alkitabi fee yatama annisa-iallatee la tu'toonahunna ma kutiba lahunnawatarghaboona an tankihoohunna walmustadAAafeenamina alwildani waan taqoomoo lilyatama bilqistiwama tafAAaloo min khayrin fa-inna Allaha kanabihi AAaleema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے

محمد جوناگڑھی

آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے! کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وه آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں ﻻنے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو۔ تم جو نیک کام کرو، بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے واﻻ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

لو گ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو(یا لالچ کی بنا ء پر تم خود ان سے نکاح کر لینا چاہتے ہو)، اور وہ احکام جو ان بچّوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ ﷺ سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے (وضاحت کرتا ہے) ان کے بارے میں اور جو تمہیں (پہلے سے) سنایا جا رہا ہے کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں مگر ایسی بےسہارا یتیم لڑکیوں سے نکاح نہ کرو کیونکہ : جن کو تم دیتے نہیں ہو جو اللہ نے ان کے لیے لکھ دیا ہے اور چاہتے ہو کہ ان سے نکاح بھی کرو اور (اسی طرح) وہ بچے جو کمزور ہیں (جن پر ظلم ہوتا ہے) اور یہ (ہم نے تمہیں اتنے تفصیلی احکام دیے ہیں) کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف پر کاربند رہو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے واقف ہے