سورہ An-Naml — آیت 23
چیونٹی · 27:23 · 23/93
إِنِّى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ
Innee wajadtu imraatan tamlikuhum waootiyatmin kulli shay-in walaha AAarshun AAatheem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے
محمد جوناگڑھی
میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت واﻻ ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمران ہے اُس کو ہر طرح کا ساز و سامان بخشا گیا ہے اور اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
میں نے ایک عورت کو ان پر حکومت کرتے ہوئے دیکھا ہے اور اسے ہر شے دی گئی ہے اور اس کا تخت بہت عظیم الشان ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے[1] جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت واﻻ ہے.[2]
حواشی
[1] یعنی ہدہد کے لئے بھی یہ امر باعث تعجب تھا کہ سبا میں ایک عورت حکمران ہے۔ لیکن آج کل کہا جاتا ہے کہ عورتیں بھی ہر معاملے میں مردوں کے برابر ہیں۔ اگر مرد حکمران ہو سکتاہے تو عورت کیوں نہیں ہوسکتی؟ حالانکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ بعض لوگ ملکہ سبا (بلقیس) کے اس ذکر سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عورت کی سربراہی جائز ہے۔ حالانکہ قرآن نے ایک واقعے کے طور پر اس کا ذکر کیا ہے ، اس سے اس کے جواز یا عدم جواز کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ عورت کی سربراہی کے عدم جواز پر قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔ [2] کہا جاتا ہے کہ اس کا طول 80 ہاتھ عرض 40 ہاتھ اور اونچائی 30 ہاتھ تھی اور اس میں موتی ، سرخ یاقوت اور سبز زمرد جڑے ہوئےتھے ، واللہ اعلم (فتح القدیر) ویسے یہ قول مبالغے سے خالی نہیں معلوم ہوتا۔ یمن میں بلقیس کا جو محل ٹوٹی پھوٹی شکل میں موجود ہے اس میں اتنے بڑے تخت کی گنجائش نہیں۔