سورہ An-Naml — آیت 16

چیونٹی · 27:16 · 16/93

وَوَرِثَ سُلَيْمَـٰنُ دَاوُۥدَ ۖ وَقَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِينُ

Wawaritha sulaymanu dawoodawaqala ya ayyuha annasuAAullimna mantiqa attayri waooteenamin kulli shay-in inna hatha lahuwa alfadlualmubeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور سلیمان اور داؤد کے قائم مقام ہوئے۔ اور کہنے لگے کہ لوگو! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عنایت فرمائی گئی ہے۔ بےشک یہ (اُس کا) صریح فضل ہے

محمد جوناگڑھی

اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور داوٴدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا۔ اور اس نے کہا”لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بے شک یہ (اللہ کا)نمایاں فضل ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور وارث ہوا سلیمان ؑ داؤد ؑ کا اور اس نے کہا : اے لوگو ! ہمیں سکھا دی گئی ہیں پرندوں کی بولیاں اور ہمیں (اللہ کی طرف سے) ہرچیز عطا کی گئی ہے۔ یقیناً یہ (اللہ کا) بہت واضح فضل ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے[1] اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے[2] اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے.[3]

حواشی

[1] اس سے مراد نبوت اور بادشاہت کی وراثت ہے، جس کے وارث صرف سلیمان (عليه السلام) قرار پائے۔ ورنہ حضرت داود (عليه السلام) کے اور بھی بیٹے تھے جو اس وراثت سے محروم رہے۔ ویسے بھی انبیا کی وراثت علم میں ہی ہوتی ہے، جو مال و اسباب چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے،جیسا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ہے۔ (البخاري كتاب الفرائض، ومسلم، كتاب الجهاد)۔ [2] بولیاں تو تمام جانوروں کی سکھلائی گئی تھیں۔ لیکن پرندوں کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا ہے کہ پرندے سائے کے لیے ہر وقت ساتھ رہتے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ صرف پرندوں کی بولیاں سکھلائی گئی تھیں اور چیونٹیاں بھی منجملہ پرندوں کے ہیں۔ (فتح القدیر)۔ [3] جس کی ان کو ضرورت تھی، جیسے علم، نبوت، حکمت، مال، جن و انس اور طیور و حیوانات کی تسخیر وغیرہ۔